بدعت اورجہالت
بدعت کیا ہے؟
بدعت سے مراد وہ نیا کام ہے ، جسے دین کے اعمال میں شامل سمجھ کر انجام دیا جائے حالاں کہ قرآن مجید ، احادیث ، صحابہ کرام کے حالات اور تابعین و تبع تابعین سے اس کا کوئی ثبوت نہ ملتا ہو۔ ہمیں بدعتوں سے بچنے اور ہر سنت پر عمل کا پورا اہتمام کرنا چاہیے کیونکہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کی ہر سنت اللہ تعالٰی کو محبوب ہے۔ جتنی سنت پر عمل کرنے کی تاکید ہے، اسی قدر بدعت سے پرہیز اور نفرت کرنے کی تاکید ہے، کیونکہ حضرت محمد صلّی اللہ علیہ وسلّم کو بدعت سے نہ صرف نفرت تھی بلکہ تکلیف بھی ہوتی تھی اور جس چیز سے آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم کو تکلیف ہوتو اس سے بدتر کیا چیز ہوسکتی ہے۔
قیامت کے دن حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم اپنی امت کے بدعتیوں کو دیکھ کر بڑی نفرت کے انداز میں فرمائیں گے۔" سحقا سحقا لمن بدل بعدی۔ یعنی جنہوں نے میرے بعد دین میں کوئی تبدیلی کی اور بدعت پھیلائی وہ مجھ سے دور دور رہیں۔
بدعت ایجات کرنے کا یہ مطلب ہے کہ ہمارا کامل دین گویا ابھی ناقص ہے اور حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم کی شریعت میں بھی کسی کمی پیشی کی گنجائش ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے بعد گویا نبوت کی ضرورت ہے اس طرح بدعتی عملی طور پر ختم نبوت کے انکار کی راہ پر چل پڑتا ہے، اس لحاظ سے دیکھیں تو بدعت کا اثر نہ صرف لوگوں کے اعمال پر ہوتا ہے بلکہ ان کے عقائد پر بھی پڑتا ہے۔ بدعت میں حد سے بڑھنے سے برے خاتمے کا اندیشہ ہے۔
ہم سب کو بدعت سے بچنا چاہیے اور جو لوگ بدعتیں ایجاد کرتے ہیں، ان سے دور رہنا چاہیے۔
No comments:
Post a Comment